جمعرات 18 جون 2026 - 18:21
سومِ محرم الحرام: کربلا میں حق و باطل کی کشمکش کا ایک اہم مرحلہ

حوزہ/محرم الحرام 61 ہجری کا چاند طلوع ہوتے ہی سرزمینِ کربلا پر تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم باب رقم ہونا شروع ہوگیا جس نے حق و باطل کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم کر دی۔ ہر گزرتا دن امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا ساتھیوں کے لیے آزمائش، استقامت اور ایثار کے نئے مراحل لے کر آ رہا تھا۔ سومِ محرم الحرام بھی انہی اہم اور فیصلہ کن دنوں میں سے ایک ہے، جب یزیدی حکومت کے عزائم مزید آشکار ہوئے اور واقعۂ کربلا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام 61 ہجری کا چاند طلوع ہوتے ہی سرزمینِ کربلا پر تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم باب رقم ہونا شروع ہوگیا جس نے حق و باطل کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم کر دی۔ ہر گزرتا دن امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا ساتھیوں کے لیے آزمائش، استقامت اور ایثار کے نئے مراحل لے کر آ رہا تھا۔ سومِ محرم الحرام بھی انہی اہم اور فیصلہ کن دنوں میں سے ایک ہے، جب یزیدی حکومت کے عزائم مزید آشکار ہوئے اور واقعۂ کربلا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔

ابن زیاد ملعون کا دھمکی آمیز خط

سومِ محرم کو کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد ملعون نے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ایک نہایت سخت اور دھمکی آمیز خط روانہ کیا۔ اس نے لکھا:"اے حسینؑ! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ سرزمینِ کربلا میں پہنچ چکے ہیں۔ یزید (لعنۃ اللہ علیہ) نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب تک میں آپ کو قتل نہ کر دوں یا آپ کو اپنی اور یزید کی بیعت پر مجبور نہ کر لوں، نہ آرام کروں گا اور نہ شکم سیر ہو کر کھانا کھاؤں گا۔"

یہ خط یزیدی اقتدار کی اس ظالمانہ سوچ کا آئینہ دار تھا جو حق و صداقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے ظلم و جبر کے ذریعے اپنی حکومت کو دوام دینا چاہتی تھی۔

جب قاصد نے امام حسین علیہ السلام سے جواب طلب کیا تو آپؑ نے نہایت وقار، استغنا اور اطمینان کے ساتھ فرمایا:"اس خط کا کوئی جواب نہیں، اس کا جواب اللہ کا عذاب ہے۔"

یہ مختصر مگر بامعنی جواب اس حقیقت کا اعلان تھا کہ اہلِ حق کو باطل کی دھمکیاں کبھی مرعوب نہیں کر سکتیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت اور امام حسین علیہ السلام

سومِ محرم کے واقعات میں ایک اہم پہلو امام حسین علیہ السلام کا اپنی شہادت کی طرف اشارہ بھی ہے۔ آپؑ سفرِ کربلا کے دوران مختلف مواقع پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔

امام زین العابدین علیہ السلام روایت کرتے ہیں:"ہم کسی منزل پر نہیں اترے مگر یہ کہ میرے والد امام حسین علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا تذکرہ فرمایا۔"

حضرت یحییٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نے باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ دونوں مقدس ہستیوں کا خون ظلم و استبداد کے ہاتھوں بہایا گیا، لیکن ان کی قربانیوں نے حق و عدالت کے چراغ کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔

دنیا اور آخرت کے درمیان عمر سعد ملعون کا انتخاب

اسی دن عبیداللہ بن زیاد ملعون نے عمر سعد ملعون کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا جہاں اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

عمر سعد ملعون کو ری اور گرگان کی حکومت کا لالچ دیا گیا تھا اور وہ اس منصب کے حصول کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران ابن زیاد ملعون نے اسے حکم دیا کہ پہلے امام حسین علیہ السلام کے مقابلے کے لیے روانہ ہو، اس کے بعد حکومتِ ری اس کے حوالے کی جائے گی۔

ابتداء میں عمر سعد ملعون نے تردد کا اظہار کیا، لیکن جب ابن زیاد ملعون نے حکومتِ ری کا فرمان واپس لینے کی دھمکی دی تو وہ دنیاوی اقتدار کے لالچ میں آ گیا اور چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوگیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے دیکھا کہ ایک شخص چند روزہ اقتدار کی خاطر فرزندِ رسولؐ کے مقابل صف آرا ہونے پر آمادہ ہوگیا اور ہمیشہ کی بدنامی اپنے نام لکھوا لی۔

مختصراً، عمر سعد ملعون 3 محرم 61 ہجری کو کربلا پہنچا اور پہنچتے ہی امام حسین علیہ السلام کے پاس ایک قاصد بھیجنا چاہا تاکہ آپؑ سے دریافت کرے کہ آپ اس سرزمین میں کس مقصد کے تحت تشریف لائے ہیں۔ اگرچہ وہ خود پہلے امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھ چکا تھا، لیکن امامؑ سے براہِ راست ملاقات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔

اسی دوران کثیر بن عبداللہ شعبی، جو ایک جنگجو اور سخت مزاج شخص تھا، بولا:

"میں جاتا ہوں، اور اگر موقع ملا تو حسینؑ کو قتل بھی کر دوں گا۔"

عمر سعد ملعون نے کہا:"میں نہیں چاہتا کہ تم انہیں قتل کرو، بلکہ صرف یہ معلوم کرو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں۔"

کثیر اپنی تلوار کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے خیموں کی طرف روانہ ہوا۔ جب حضرت ابوثمامہ صائدی علیہ السلام نے اسے آتے دیکھا تو امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا:"اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے، یہ زمین کے سب سے زیادہ خونخوار اور بے باک لوگوں میں سے ایک شخص ہے جو آپ کی طرف آ رہا ہے۔"

پھر انہوں نے کثیر سے کہا: "اپنی تلوار رکھ دو تاکہ تمہیں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اجازت دی جا سکے۔"

کثیر نے جواب دیا:"میں ایک قاصد ہوں۔ اگر تم چاہو تو پیغام پہنچا دیتا ہوں، ورنہ واپس چلا جاتا ہوں۔"

وہ اپنی تلوار سے جدا ہونے پر آمادہ نہ ہوا۔ حضرت ابوثمامہ علیہ السلام نے فرمایا:"کم از کم تلوار کی قبضہ گاہ میرے ہاتھ میں رہنے دو تاکہ تم امامؑ سے گفتگو کر سکو۔"

لیکن اس نے یہ بات بھی قبول نہ کی۔ پھر حضرت ابوثمامہ علیہ السلام نے فرمایا:"اپنا پیغام مجھے بتاؤ، میں امامؑ تک پہنچا دوں گا۔ میں تمہیں امامؑ کے قریب نہیں جانے دوں گا۔"

کثیر یہ سن کر غصے میں واپس لوٹ گیا اور عمر سعد ملعون کے لشکر میں جا پہنچا۔

قرہ بن قیس کی امام حسین علیہ السلام سے ملاقات

اس کے بعد عمر سعد ملعون نے قرہ بن قیس حنظلی کو امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا۔

جب وہ قریب آیا تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے پوچھا: "کیا تم میں سے کوئی اسے پہچانتا ہے؟"

حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے عرض کیا: "یہ قبیلۂ تمیم کی شاخ حنظلہ سے تعلق رکھتا ہے۔ میں اسے جانتا ہوں۔ یہ نیک نیت اور درست رائے رکھنے والا شخص ہے۔ مجھے گمان نہ تھا کہ یہ عمر سعد ملعون کے لشکر میں شامل ہوگا۔"

قرہ آگے بڑھا، سلام عرض کیا اور عمر سعد کا پیغام امام حسین علیہ السلام تک پہنچایا۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:"تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے خطوط لکھ کر بلایا تھا۔ اگر اب وہ مجھے پسند نہیں کرتے اور اپنی رائے بدل چکے ہیں تو میں واپس چلا جاؤں گا۔"

حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام کی نصیحت

جب قرہ واپس جانے لگا تو حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:"افسوس ہے تم پر! کیا تم ظالموں کی طرف واپس جاؤ گے؟ یہیں رہو اور اس ہستی کی نصرت کرو جس کے وجود کے صدقے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت و شرف عطا فرمایا ہے۔"

قرہ نے جواب دیا:"میں پہلے یہ پیغام پہنچا دوں، پھر واپس آ کر اپنے بارے میں فیصلہ کروں گا۔"

چنانچہ وہ عمر سعد ملعون کے پاس واپس گیا اور امام حسین علیہ السلام کا جواب اسے پہنچا دیا۔

عمر سعد ملعون کا ابن زیاد ملعون کے نام خط

امام حسین علیہ السلام کا جواب سن کر عمر سعد ملعون نے کہا: "مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے سے محفوظ رکھے گا۔"

اس کے بعد اس نے عبیداللہ بن زیاد ملعون کے نام ایک خط لکھا: "کربلا پہنچتے ہی میں نے ایک قاصد کو حسینؑ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے معلوم کرے کہ وہ کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اہلِ کوفہ نے انہیں خطوط لکھ کر بلایا تھا اور وہ انہی کی دعوت پر آئے ہیں۔ اب اگر اہلِ کوفہ اپنی سابقہ رائے سے پھر چکے ہیں اور انہیں نہیں چاہتے تو وہ واپس لوٹنے کے لیے تیار ہیں۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha